2013-10-06 20:31:19

پاکستان میں بھارتی مداخلت اور ہماری خود فریبی

تحریر :تصور حسین شہزاد


اکستان محکمہ خارجہ کے سیکرٹری نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ امریکا کے موقع پر پاکستان نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے تمام ثبوت مکمل دستاویزات کے ساتھ نہ صرف بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کو پیش کر دیئے تھے بلکہ اس مسئلے پر عالمی رہنماؤں کو بھی آگاہی دی گئی تھی۔ پاکستان، بلوچستان میں ہونیوالی دہشت گردی میں غیرملکی ہاتھ کے ملوث ہونے پر پہلے بھی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے، خصوصی طور پر بھارتی انٹیلی جنس را کے حوالے سے پاکستان ماضی میں متعدد بار بھارت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکا ہے مگر بھارت صرف اپنے اندرونی معاملات پر تو ہمارے ساتھ گلے شکوے کرتا اور دنیا بھر میں ہماری شکایتیں لگاتا ہے مگر ہمارے تحفظات پر کان نہیں دھرتا۔ پاکستان کئی بار بھارتی حکام کو باور کرا چکا ہے کہ الزام تراشیوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، دہشت گردی دونوں ملکوں کیلئے اہم اور بنیادی مسئلہ ہے اور اس کے حل کیلئے مذاکرات ہی بہترین راستہ ہے۔ بھارت واویلا اور الزام تراشیوں کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئے تو مثبت سمت میں پیشرفت ہو سکتی ہے۔ سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر، بھارت کی آبی جارحیت اور دہشت گردی سمیت تمام معاملات ہر فورم پر اٹھائے گا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کے مجوزہ دورہ امریکا کے موقع پر امریکی صدر باراک اوباما کو بھی پاک بھارت معاملات کے بارے میں صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں باہمی تعلقات کے معمول پر آنے کے چند وقفے ضرور آئے مگر ان وقفوں کے دوران بھی دونوں طرف عدم اعتماد کی فضا برقرار رہی۔

گذشتہ کچھ برسوں سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کا جو نیا رخ متعین ہوا ہے اس میں خواہشِ الفت سے زیادہ جذبہ عداوت غالب رہا ہے جس میں پاکستان کا قصور کم اور بھارت کی ہٹ دھرمی کا دخل زیادہ ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے اپنے گذشتہ دور حکومت میں بھارت کے ساتھ تعلقات کار کو دوستی کے ڈھب پر لانے کی جو کوشش کی تھی اسے مشرف کے کارگل ایڈونچر نے تلپٹ کر کے رکھ دیا تھا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں وہی مشرف بھارت سے دوستی کی بھیک مانگتے نظر آئے مگر اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا تھا اور بھارت پاکستان کو ملنے والے پانی پر بہت سے ڈیم بنا کر آبی جارحیت کے اپنے منصوبوں کو ٹھوس شکل دے چکا تھا۔ بھارت کی پاکستان سے یہ عداوت روز ازل سے ہے اور امکانات اسی بات کے ہیں کہ شاید ہی یہ کبھی ختم ہو سکے کیونکہ بھارتی بنیا پاکستان کے بارے میں ایسا کینہ رکھتا ہے جس کا بیج کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را ہمیشہ سے پاکستان کو اندرونی طور پر غیرمستحکم کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف رہی ہے اور بہت سے رازہائے درون خانہ سے واقف اس بات پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا کرنے کی سازشوں کے پیچھے جو غیرملکی ہاتھ سرگرم عمل ہے۔ ان میں سب سے بڑا خفیہ ہاتھ را کا ہے اور دوسرے نمبر پر اسرائیلی ایجنسی موساد کا۔ جب سے امریکا نے افغانستان پر چڑھائی کی ہے بھارت نے موقع غنیمت جانتے ہوئے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا اور آج پاکستانی سرحدوں کیساتھ ساتھ افغانستان کے علاقے میں بھارت کے غیرضروری طور پر قائم کئے گئے درجنوں قونصل خانے صرف اور صرف پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے ہی دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔

اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بلوچستان میں برپا شورش کے پیچھے بھارتی ایجنسی را کا ہاتھ ہے۔ جو آئے دن افغانستان سے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل کر کے بلوچستان میں خونی وارداتوں کا ارتکاب کرواتی ہے اور پاکستان کے امن کو تہ و بالا کرنے میں کوئی لمحہ ضائع نہیں جانے دیتی۔ پاکستان میں خودکش حملوں، ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں اور دیگر تخریبی کارروائیوں میں بھارت کے پاکستان دشمن خفیہ ادارے ملوث ہیں اور اس بارے میں کسی قسم کے شک و شبے کی کوئی گنجائش نہیں۔ مصدقہ رپورٹیں ہیں کہ افغانستان کی سرزمین سے بارود سے بھری ہوئی جو گاڑیاں سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوتی ہیں انہیں بھارتی خفیہ اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل ہوتی ہے یہاں تک کہ اسرائیل اور امریکی سی آئی اے بھی بھارت کیساتھ پاکستان دشمنی کے ان ہتھکنڈوں میں پورا پورا ساتھ دیتی ہیں۔ پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کی حالیہ وارداتیں جن کو مبینہ طور پر طالبان نے اپنی وارداتیں تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے مبصرین نے انہیں بھارت کی را کا کارنامہ قرار دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کی رائے میں بھارت کے پاکستان دشمن رویے نے دونوں ممالک کے درمیان امن بات چیت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ یہاں تک کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان امریکا میں ہونے والی ملاقات کو بے نتیجہ بنانے میں بھی بھارتی خفیہ اداروں کا ہاتھ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

پاکستان ہمیشہ سے خطے میں قیام امن کیلئے بھارت کے ساتھ بات چیت پر زور دیتا آ رہا ہے مگر پڑوسی ملک نے پاکستان کی قیام امن کی خواہش کو ہمیشہ اس کی کمزوری پر محمول کیا اور اس کے ’’شکروں‘‘ نے منموہن سنگھ جیسے بے ضرر وزیراعظم کو پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کے سلسلے میں بے بس کر کے رکھ دیا۔ کنٹرول لائن پر ہونے والی بلاجواز اشتعال انگیزی اور فائرنگ کے واقعات اس بات کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ بھارت میں آئندہ ہونیوالے انتخابات میں پاکستان کی دشمن سیاسی جماعت بی جے پی نے پاکستان اور مسلم دشمنی میں مشہور نریندرا مودی کو مستقبل کا وزیراعظم نامزد کر کے اپنے عزائم سب پر ظاہر کر دیئے اور تبھی سے پاک بھارت تعلقات میں در آنے والی کشیدگی روز افزوں ہوتی نظر آ رہی ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی ملک سے عدم موجودگی کے دوران بھارتی ایجنسی را نے مبینہ طور پر پشاور میں دہشت گردی کا جو بازار گرم کیا اس نے خطے میں قیام امن کی پاکستانی کوششوں کو ناکامی سے دوچار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مبینہ طور پر پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں، بم دھماکوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کی کڑیاں اگر افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک پہنچتی ہیں تو وہیں ان کا اصل منبع بھارتی قونصل خانے بھی ہیں جن کے بارے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جنہیں بقول سیکرٹری خارجہ پاکستان وزیراعظم نوازشریف نے اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے دوران شیئر کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت ان دستاویزی ثبوت کو دیکھ کر بھی کیا پاکستان دشمن رویے سے باز آ جائے گا؟ حالات و واقعات اس کی نفی کرتے ہیں تو کیا ایسے میں بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کی باتیں خود فریبی نہیں؟