2013-05-17 17:44:00

لا الہ الا اللہ

تحریر :نذر حافی


( nazarhaffi@yahoo.com )

راستہ وہی اچھا ہوتا ہے جو منزل تک لے جائے۔ کوئی بھی راستہ اس لئے اچھا نہیں ہوتا کہ وہ وسیع، کشادہ اور دلکش ہے بلکہ اس لئے اچھا اور اہم ہوتا ہے کہ منزل تک لے جاتا ہے۔ اگر راستہ منزل تک نہ لے جائے تو چاہے کتنا ہی وسیع، کشادہ اور خوبصورت کیوں نہ ہو، اسے انتخاب نہیں کیا جاسکتا اور اگر راستہ منزل تک لے جائے تو چاہے کتنا ہی کٹھن اور دشوار کیوں نہ ہو، اسے ترک نہیں کیا جاسکتا۔ جو انسان اپنی منزل کا تعیّن نہ کرے اور راستوں کی لمبائی، چوڑائی اور دلکشی کو دیکھ کر قدم اٹھانے شروع کر دے، وہ جتنا تیزی سے چلتا ہے اتنا ہی منزل سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور ایسے انسان کے لئے نجات سے زیادہ ہلاکت کی کئی صورتیں نکل کر سامنے آجاتی ہیں۔

برّصغیر کے مسلمانوں کے لئے پاکستان ایک منزل کا نام نہیں بلکہ ایک راستے کا نام تھا۔ ہندوستان کے مسلمان اس راستے کو طے کرکے اسلامی حکومت کی منزل تک پہنچنا چاہتے تھے۔ مسلمانانِ برّصغیر کا وہ کارواں جو 14 اگست 1947ء کو پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔لا الہ الا اللہ کی نیت کرکے اپنی منزل کی طرف رواں ہوا تھا، ابھی تک راستے میں ہی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے مسلمانوں نے کوئی ترقی نہیں کی تو یقیناً اسے یا تو حالات سے مکمل آگاہی نہیں ہے اور یا پھر کسی اور وجہ سے حقائق پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ 

اس سے انکار نہیں کہ پاکستان کو اپنے قیام کے فوراً بعد شدید معاشی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا اور ابھی تک ان مسائل کا شکار ہے لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی مدِّنظر رکھنا چاہیے کہ وہ ملک جو اپنے جغرافیئے، معیشت اور حکومتی نظام کا آغاز بالکل صفر سے کرے، اس کے لئے یہ مسائل بالکل فطری اور لازمی ہیں۔ خصوصاً ایک ایسا ملک جس کے وجود میں آنے سے پہلے ہی اسے ختم کرنے کی فکر جنم لے چکی ہو اور اس کے گرد سازشوں اور دشمنیوں کے الاو دہک رہے ہوں، صاحبانِ عقل کے لئے ایسے ملک کا مسائل کے گرداب میں پھنسنا ایک یقینی امر ہے۔ یہ ملک اگرچہ مشکلات کے بھنور میں ہے، لیکن ملت پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ یہ ملت روزِ اوّل سے دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے میدان میں تھی، میدان میں ہے اور ہمیشہ میدان میں رہے گی۔ 

افغانستان کے کہساروں سے لے کر کشمیر کے چناروں تک اور یوم القدس کی ریلیوں سے لے کر بیت اللہ میں مردہ باد امریکہ کے نعروں تک، حرف حرف داستانِ عشق پاکستانیوں کے خون سے رقم ہے۔
یہ ملت گذشتہ کئی برسوں سے ایک کارواں کی صورت میں اپنی منزل کو رواں دواں ہے۔ اس سفر کے دوران راستے میں جابجا سیاسی قزاق اور معاشی لٹیرے اس ملت کو لوٹ رہے ہیں، چنانچہ ہمارے ہاں ہر ادارے میں کرپشن، ہر الیکشن میں دھاندلی، ہر کوچے میں خون اور ہر شخص کے چہرے پر اداسی صاف نظر آرہی ہے۔ کئی سالوں پر محیط اس ابتری اور کشمکش سے پتہ چل رہا ہے کہ ملت پاکستان کا انتخاب کردہ راستہ دشوار ترین اور کٹھن ضرور ہے، لیکن ہمیں ہر صورت میں دفاعِ پاکستان کرتے ہوئے اپنی منزل یعنی اسلامی حکومت کی طرف بڑھنا ہے۔ دنیا میں کہیں پر بھی اسلامی حکومت کے قیام کے حوالے سے دو طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں، ایک یہ ہے کہ چلتے ہوئے نظام کو ہاتھ میں لے کر درست کیا جائے اور دوسرا یہ ہے کہ عوام کی تربیّت کرکے اسلامی حکومت کو قائم کیا جائے۔

ہمارے ہاں پہلے نظریے پر جماعتِ اسلامی جبکہ دوسرے نظریے پر تبلیغی جماعت ایک عرصے سے کام کر رہی ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی یہ سمجھے کہ پہلا راستہ مختصر اور دوسرا طولانی ہے، لیکن درحقیقت پہلا راستہ بھی اتنا ہی طولانی، کٹھن اور دشوار ہے جتنا کہ دوسرا۔ ہمیں دونوں محاذوں پر بنیادوں سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اگر ہم اپنی ملت کا دوسری اقوام سے موازنہ کرنے کے بجائے خود اسی ملت کے ساتھ موازنہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ہمارے ہاں عوام کی شعوری سطح بہت حوصلہ افزا ہے۔ یعنی ہم نے پاکستان میں نظریاتی اور فکری طور پر جتنا کام کیا ہے اس کا نتیجہ بہت اچھا ملا ہے۔ اگر ہم اپنی ملت کا ایرانی قوم سے موازنہ کریں تو یہ غلط ہے، چونکہ ایران میں سینکڑوں سال سے منظم کام ہو رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں شعوری و فکری جدوجہد کا مسلسل دورانیہ چند دہائیوں سے زیادہ نہیں ہے۔ اس مختصر دورانئے میں ہمارے تاریخی تجربات سے ثابت ہے کہ اگر ملت پاکستان کے لئے علماء کرام اور دانشمند حضرات ٹھوس لائحہ عمل تیار کریں اور مناسب حکمتِ عملی اختیار کریں تو یہ ملت بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ سکتی ہے۔

ہمیں اپنی حکمتِ عملی کے حوالے سے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کوئی بھی حکمتِ عملی اس لئے اچھی نہیں ہے کہ اسے فلاں فلاں نے تیار کیا ہے، اس پر اتنے عرصہ صرف ہوا ہے اور ۔۔۔ بلکہ حکمتِ عملی کی حیثیت ایک راستے کی سی ہے اور راستہ وہی اچھا ہوتا ہے جو منزل تک لے جائے، کوئی بھی راستہ اس لئے اچھا نہیں ہوتا کہ وہ وسیع، کشادہ اور دلکش ہے بلکہ اس لئے اچھا اور اہم ہوتا ہے کہ وہ منزل تک لے جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی یہ سمجھے کہ چلتی ہوئی حکومت کو ہاتھ میں لینے کا راستہ مختصر ہے اور عوام کی تربیت کا راستہ طولانی ہے، لیکن درحقیقت پہلا راستہ بھی اتنا ہی طولانی، کٹھن اور دشوار ہے جتنا کہ دوسرا۔ لہذا جن کے راستے دشوار، کٹھن اور طولانی ہوں، انہیں دوسروں کی نسبت زیادہ متحد اور چوکنّا رہنے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔