پاکستان نے کونسل آف یورپ کا ممبر بننے کیلئے سزائے موت پر عمل روکا PDF Print E-mail
Written by Administrator   
Sunday, 06 October 2013 21:01

پاکستان کو کونسل آف یورپ کارکن بننے کیلئے سب سے پہلے ملک سے سزائے موت کے قانون کا خاتمہ یا پھر خطرناک مجرموں کو دی جانے والی سزائے موت پر عملدرآمد روکنا ہو گا یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کو دی جانے والی سزائے موت پر سابق صدر آصف علی زرداری کی حکومت نے عملدرآمد نہ کیا اور پھر موجودہ حکومت بھی عملدرآمد نہیں کر رہی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ کونسل آف یورپ کے علاقہ میں کسی بھی خطرناک مجرم کو سزائے موت نہیں دی جاتی جبکہ کونسل آف یورپ کے 47 رکن ریاستوں نے سزائے موت کو ختم کر دیا ہے یا پھر سزائے موت پر عملدرآمد کے معاملات کو التواء میں ڈال دیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ 1997 کے بعد اب تک آرگنائزیشن کی رکن ریاستوں کے علاقوں میں کسی بھی مجرم کو سزائے موت نہیں دی گئی بلکہ وہاں پارلیمانی اسمبلی سزائے موت کے معاملے کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے کونسل آف یورپ میں شمولیت کیلئے درخواست دی تو کونسل آف یورپ سزائے موت کے بارے میں سوال کریں گے جس کی وجہ سے پاکستان کونسل آف یورپ کا ممبر بننے کا اہل نہیں ہو گا۔ ذرائع کے مطابق اگر پاکستان دہشت گرد، سزا یافتہ افراد کی وجہ سے ملک میں منتقلی کے معاہدے کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی اور پاکستان کونسل آف یورپ کا رکن بن گیا تو معاہدے کا آرٹیکل 12 پاکستان میں سزائے موت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق سزائے موت کی معافی یا دیگر سزاؤں میں تخفیف دی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے پانچویں اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شیری مزاری نے بھی اس حوالے سے سوال کیا تھا اور انہیں بتایا گیا تھا کہ کونسل انسانی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتی ہے اور حکومت بھی اس کے ساتھ چلنا چاہتی ہے۔