سندھ، کالعدم تنظیموں پر قربانی کی کھالیں جمع کرنیکی پابندی عائد کر دی گئی PDF Print E-mail
Written by Administrator   
Sunday, 06 October 2013 20:43

کومت سندھ نے عیدالاضحٰی پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے حوالے سے ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دے دی ہے۔ عیدالاضحیٰ کے تینوں ایام میں صرف ان رجسٹرڈ فلاحی تنظیموں، اداروں اور مدارس کو کھالیں جمع کرنے کی اجازت ہو گی، جن کو محکمہ داخلہ یا متعلقہ ڈپٹی کمشنرز خصوصی اجازت نامے جاری کریں گے۔ عیدالاضحٰی پر کالعدم تنظیموں پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد ہو گی۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ نے عیدالاضحٰی پر کھالیں جمع کرنے کے حوالے سے ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کا باضابطہ اعلامیہ آئندہ چند روز میں جاری کر دیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق عیدالاضحٰی کے تینوں ایام میں اجازت نامہ حاصل کرنے والی تنظیموں اور دیگر پر یہ لازم ہوگا کہ ان کے رضا کار کھالیں جمع کرنے کے موقع پر اپنا اصل قومی شناختی کارڈ متعلقہ ادارے یا تنظیم کا کارڈ اور محکمہ داخلہ یا ڈپٹی کمشنر کا جاری کردہ اجازت نامہ اپنے ہمراہ رکھیں۔ کراچی سمیت صوبے بھر میں کھالیں جمع کرنے کے لئے شاہراہوں یا علاقوں میں کیمپ لگانے اور لاوڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی تنظیم یا ادارہ عیدالاضحٰی سے قبل کسی فرد کو کھالیں وصول کرنے کی پرچیاں دے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ کسی تنظیم یا ادارے کو جبراً کھال وصول کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اگر کسی نے زبردستی کھال وصول کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 (اے ٹی اے) کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے۔

کھالیں جمع کرنے کے حوالے سے تمام فلاحی تنظیمیں اور ادارے 15 اکتوبر سے قبل متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا محکمہ داخلہ سے اجازت نامہ حاصل کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق عیدالاضحٰی کے موقع پر کھالیں جمع کرنے کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانے کے لئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں کو ہدایات کی گئی ہیں کہ عیدقربان کے تینوں ایام میں کالعدم تنظیموں پر خصوصی نگاہ رکھی جائے اور اس بات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے کہ کوئی کالعدم تنظیم نام بدل کر کھال وصول نہ کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عیدالاضحٰی کے تینوں ایام میں لائسنس یافتہ اسلحہ لے کر چلنے پر بھی پابندی عائد ہو گی۔

اطلاعات کے مطابق کسی بھی کالعدم تنظیم کو رعایت نہیں دی جائے گی کیونکہ قربانی کی کھالوں اور عطیات سے جمع ہونے والی خطیر رقم کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ قربانی کی کھالوں کے حصول کے لئے مذہبی و سماجی تنظیموں، مذہبی جماعتوں، مدارس اور کالعدم تنظیموں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ حقائق کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کالعدم تنظیمیں قربانی کی کھالیں بیچ کر اس سے حاصل ہونی والی خطیر رقم سے غریبوں، نادار، مستحق افراد کی مدد کرنے کے بجائے اسے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں قربانی کی کھالوں کو بیرون ملک سے ملنے والی رقم کی آڑ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ رقم قربانی کی کھالیں فروخت کرکے حاصل کی ہے۔ پاکستان میں مختلف ناموں سے سرگرم کالعدم دہشت گرد تنظیمیں مذہبی تہواروں کے دوران خیرات و صدقات کے ذریعے کروڑوں روپے حاصل کر لیتی ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تاکید کی گئی ہے کہ حکومتی سطح پر عوام میں اس شعور کو بیدار کرنے کیلئے باقاعدہ مہم چلانی چاہئیے کہ عوام اس بات کا فیصلہ کرنے میں محتاط رہیں کہ وہ قربانی کی کھالیں کسے دے رہے ہیں۔ عوام کو عام طور پر انتہاء پسند خیراتی تنظیموں کا علم نہیں ہوتا اور وہ بےخبری میں اسلام اور انسانیت کے نام پر انہیں عطیات دے دیتے ہیں۔ لوگوں کو چاہیئے کہ وہ صرف اصلی خیراتی اداروں اور امدادی تنظیموں کو عطیات دیں جن کی فلاحی سرگرمیوں کا سب کو پتا ہو۔