آئی ایس او پاکستان کے 3روزہ کنونشن پر خصوصی رپورٹ!!! PDF Print E-mail
Written by Administrator   
Sunday, 06 October 2013 20:39

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سالانہ مرکزی 42واں ’’امید مستضعفین جہاں ‘‘ کنونشن کا آغاز مورخہ 27 ستمبر 2013ء بروز جمعہ علی الصبح جامعہ المنتظر لاہور میں ہوا۔ کنونشن کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز اسکاؤٹس کی سلامی سے ہوا، امامیہ اسکاؤٹس کے چاک و چوبند دستے نے جامعہ کے وسیع لان میں سلامی پیش کی۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی، مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان اطہر عمران طاہر، سینئر ساتھی فدا حسین اور نثار ترمذی بھی موجود تھے۔ علامہ عبدالخالق اسدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئی ایس او صالح، باکردار اور باشعور طلباء کی تنظیم ہے، جس نے اصلاح معاشرہ میں بھرپور انداز میں کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج یہ بات فخر کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ معاشرے میں جتنے بھی فلاحی منصوبے ہیں یا جو معاشرے کی بہبود اور ملت کے مفاد میں کام کئے جا رہے ہیں، ان کے پیچھے آئی ایس او کی سوچ کار فرما ہے۔ بعد ازاں ناشتہ کے لیے وقفہ کیا گیا۔ روز اول کی نشست دوئم کا آغاز پنڈال میں تلاوت قران کریم، نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوا۔ بعد ازاں ترانہ، قصیدہ، خطبہ نہج البلاغہ اور خطبہ استقبالیہ سے پیش کیا گیا۔

مرکزی صدر اطہر عمران طاہر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ میں تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس او کے بارے میں علماء کرام نے انتہائی اچھے خیالات کا اظہار کیا جو ہمارے لئے باعث اعزاز و افتخار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جو ذمہ داری دی گئی میں نے اسے اللہ کا کرم سمجھتے ہوئے آپ دوستوں کی توقعات کے مطابق خدمت کی، اس پورے سال میں کچھ کوتاہیاں بھی ہوئیں لیکن یہ شہداء کے مقدس لہو سے کھڑی ہونے والی عمارت اور صالح نوجوانوں کا یہ کاررواں آگے ہی بڑھتا رہا، اس تنظیم کی بنیاد خالص خلوص پر رکھی گئی جس کے بانیان میں آغا سید علی الموسوی، علامہ سید صفدر نجفی تھے جو اپنے ذات میں خود تنظیم تھے ان کے ساتھ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں، اگر آج ہمارے مسائل غیبی امداد سے حل ہو جاتے ہیں تو یہ شہید ڈاکٹر نقوی، آغا علی الموسوی کی ارواح ہیں جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس او کے نوجوانوں نے امام خمینی (رہ) کے افکار کو اپنے لئے مشعل راہ بنایا اور انقلاب اسلامی کے بعد اسے پاکستان میں متعارف بھی کروایا۔ انہوں نے کہا کہ امام راحل کو ایرانیوں سے بھی زیادہ پاکستان کے نوجوانوں نے پہچانا، کسی بھی تنظیم کی اصل طاقت کا اندازہ اس کے جلسے جلوسوں سے نہیں بلکہ ان کی آئیڈیالوجی سے لگایا جاتا ہے۔ تنظیموں کے کارکن ہی اس کا چہرہ ہوتے ہیں، جس تنظیم کے کارکن جس قدر صالح ہونگے، جس قدر نظریاتی طور پر مضبوط ہوں گے اتنی ہی تنظیم موثر ہو گی۔ کچھ لوگ تنظیموں کے لاشے اٹھائے پھرتے ہیں ان سے ہزار ہا درجہ بہتر ہے کہ تنظیم زندہ ہو۔ اس میں روح ہو، اسی میں کامیابی ہے اور الحمدللہ آئی ایس او ایک زندہ و جاوید تنظیم ہے۔

اس موقع پر رکن نظارت و مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما مولانا احمد اقبال رضوی نے کہا کہ ہم اللہ تعالی کے شکرگزار ہیں جس نے ہماری ملت کو آئی ایس او جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ آئی ایس او شجرہ طیبہ ہے، پاکستان میں جو بھی انقلابی اور باشعور نوجوان دیکھتے ہیں، ہر محلے، گلی اور امام بارگاہ، نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں آپ کو ایسے نوجوان ملیں گے جو دین مبین کی سربلندی کیلئے کام کر رہے ہیں، ان کا تعلق آئی ایس او سے ہی ہو گا، ان کی تربیت آئی ایس او نے ہی کی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آج 42 برس ہو گئے ہیں، جب کوئی 40 برس کا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ میچور ہو گیا، آئی ایس او چالیس برس سے قبل ہی میچور ہو گئی۔ آئی ایس او نے احسن انداز میں تربیت کرکے کہ اسلامی اقدار کو معاشرے میں رائج کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس او نے معاشرے میں اسلامی اقدار کو فروغ دیا اور پھر اسی سیکولر معاشرے میں اسلامی اقدار کو قابل فخر سمجھا جانے لگا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس او نے اس انداز میں معاشرے میں اپنا کردار ادا کیا کہ ہر اچھے کام کا کریڈٹ آئی ایس او کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس او انقلاب کا نام ہے، دنیا بھر میں جہاں بھی فلاحی، دینی اور انقلابی کام کئے جا رہے ہیں تو اس کے پیچھے آئی ایس او ہی ہوتی ہے۔ آئی ایس او کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ رہبر معظم نے فرمایا "آئی ایس او کے نوجوان میری آنکھوں کا نور ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس او صالح نوجوانوں کا وہ دستہ ہے جس نے ظہور امام عج پر سب سے پہلے لبیک کہنا ہے، خدا آئی ایس او کی حفاظت فرمائے۔ (آمین )۔ نماز جمعہ اور طعام کے لیے اس نشست کا اختتام کیا گیا۔

روز اول کی نشست سوئم کا آغاز دوپہر 3 بجے تلاوت قران پاک سے ہوا۔ تلاوت کے بعد ترانہ اور خطبہ نہج البلاغہ پڑھا گیا۔ بعد ازاں کراچی ڈویژن اور پشاور ڈویژن نے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کیں۔ رکن مرکزی نظارت آئی ایس او علامہ حیدر عباس عابدی نے 'تنظیمی اخلاق' پر ایک خوب صورت لیکچر دیا۔ علامہ مظہر کاظمی رکن مجلس نظارت نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ نشست کا اختتام 6 بجے برائے وقفہ نماز مغربین اور طعام ہوا۔ روز اول کی چوتھی نشست کا آغاز بعد از نماز مغربین اور عشائیہ تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ محفل مذاکرہ میں آٹھ مرکزی صدور شامل تھے۔ جن میں ملک اعجاز، رائے علی رضا بھٹی، سرفراز حسینی، بشارت قریشی، فرحان زیدی، ناصر شیرازی، یافث نوید ہاشمی اور اطہر عمران طاہر شامل  تھے۔ محفل مذاکرہ کے بعد مرکزی کابینہ سابقہ آٹھ مرکزی صدور اور تمام شرکاء نے مل کر آئی ایس او کا ترانہ پڑھا۔ روز اول کی آخری نشست محبین کی جانب سے خاکہ جات پر مبنی تھی۔ اس نشست میں محبین نے ’’اے ماں مجھے مقتل میں جانے کی اجازت دے‘‘ کے ترانے پر اپنی پرفارمنس پیش کی اور کنونشن کے عنوان سے اصلاحی خاکہ پیش کیا۔ شرکاء کنونشن نے محبین کی پرفارمنس کو تہہ دل سے سراہا۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے کنونشن بعنوان امید مستضعفین جہان کے دوسرے روز بھی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں جبکہ اس دن کی پہلی نشست کے آخری مقرر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ اے پی سے وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں، مذاکرات اپوزیشن اور سیاسی قوتوں کے ساتھ کئے جاتے ہیں دہشت گردوں اور قاتلوں کیساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اے پی سی بزدل اور ڈرے ہوئے لیڈروں کا اجتماع تھا، جس میں ان سے مذاکرات کی باتیں کرکے قوم کو بھی خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین دہشت گرد قاتلوں سے مذاکرات کی اجازت نہیں دیتا۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ آئی ایس او طلبا تنظیموں سے فرق رکھتی ہے، آئی ایس او ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی بنیاد پاکیزہ لوگوں نے رکھی جن کی راہ کربلا تھی اور وہ لوگ دین کی جامعیت رکھنے والے تھے، وہ افراد جو دین کے اجتماعی اور آفاقی پیغام کو سمجھتے تھے۔ ایسے وقت میں جب دائیں بازو اور بائیں بازو کے ونگ نمایاں تھے، یعنی افراد کے پاس فقط دو آپشنز ہوا کرتے تھے، ان دو حالات میں جب دونوں گمراہی کے راستے تھے جو لوگوں کو خدا سے دور کرتے تھے، یعنی ایک راستہ امریکہ اور دوسرا روس کی جانب لے جاتا تھا۔ بزرگ علماء علامہ صفدر حسین نجفی، علامہ آغا علی موسوی اور مرتضی حسین جیسے علماء نے ان نوجوانوں کی سیدھے راستے کیلئے راہنمائی کی، ایسا راستہ جو انسان کو اللہ کی جانب لے جاتا تھا۔

مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ولایت فقیہ وہ حبل اللہ ہے جو ہمیں امام زمانہ علیہ السلام سے مربوط کرتا ہے، ایسا نظام جو ہمیں عالمی استکبار کی بازی گریوں سے محفوظ رکھتا ہے جو ہمیں ہر باطل نظام سے محفوظ رکھتا ہے۔ ولایت فقیہ وہ عظیم مکتب ہے جو ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے قریب اور مربوط رکھتا ہے۔ غیبت امام زمانہ عج اللہ میں یہ نظام ہمیں ہر شرک سے بچاتا ہے، چاہے وہ سوشل ہو یا سیاسی ہو، اسی کو ایک سیاسی و اجتماعی نظام کہتے ہیں۔ ولایت وہ سسٹم ہے جو دین کا اجرا کرے، یہ نظام دین کا حصہ ہے، ولایت میں دین اور سیاست اکٹھے ہیں، دین اور سماجیات سب اکھٹے ہیں، اس میں جدائی نہیں۔ مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس معاشر ے میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جو دین کو انفرادی حیثیت میں قبول کرتے ہیں دوسرے وہ جو دین کو معاشرے کا جز سمجھتے ہیں اور اس کے اجرا کے قائل ہیں۔ غیبت کبری میں دین کے تسلسل کا نام ولایت فقیہ ہے۔ جب اسلامی حکومت نہ ہو تو اخلاقیات، عرفان، سیاست، معیشت اور سب کچھ مغربی یونیورسٹیوں سے آتا ہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ امام خمینی رہ نے اس وقت غرب اور شرق سے نجات دلائی اور ایک راستہ دکھایا۔ ایسا معاشی نظام چاہیے کہ جو تمام پہلوں کو کور کرے۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی (رہ) نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے سب پہلے خود یقین کامل کا مظاہرہ کیا، دین کیلئے ہر حال میں طاقتور بننا واجب ہے، ہر حال میں حکومت کیلئے طاقتور بننا واجب ہے۔ دین اور سیاست اکھٹے ہیں، دین میں اتنی طاقت موجود ہے کہ معاشرے کو تمام مسائل سے نکال سکے۔ دنیا کی طاقتوں کو سیاسی اسلام سے خطرہ ہے۔ امام خمینی (رہ) نے سیاسی اسلام کو دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ عالمی سطح پر ایک نئی اساس پیش کی۔ امام خمینی (رہ) نے لوگوں کو حوصلہ دیا کہ روسی اور امریکی بلاک کے بغیر بھی رہا جا سکتا ہے، ایک مقاومت کی تحریک کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد محروم اور مستضعف طبقہ کو امید ملی اور عالمی طاقتوں کے خلاف تحریک چلائی۔ وہ اسرائیل جو نیل اور فرات تک اپنی سرحدوں کی بات کرتا تھا آج وہ اپنے اردگرد دیواریں بنا رہے۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ امام خمینی (رہ) نے فلسطین کی تحریک کو ایک نئی جہت دی۔ یاسر عرفات جو اسرائیل کے جھولی میں چلا گیا امام نے حماس کو امید بندھائی اور اسرائیل کی بقا کو چیلنج کر دیا۔ بحرین، تیونس، سعودی عرب، لاطینی امریکہ میں مقاومت کی تحریک شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا میں قذافی کو شکست ہوئی، شام میں امریکہ اور اس کے حواری سعودی عرب اور ترکی کو شکست ہوئی۔ یہ وہ ممالک ہیں جو بےآبرو ہو گئے۔ دنیا کو پتہ لگ گیا یہ لوگ خادمین حرمین نہیں بلکہ خادمین امریکہ ہیں، امریکہ کی حالت یہ ہے کہ اب اس کے دانت ٹوٹ گئے ہیں۔ امریکہ کو شام میں ولایت فقیہ کے تحرک نے شکست سے دوچار کیا۔ ہمارے رہبر کے مقابلے میں دنیا کے رہنما بونے لوگ ہیں۔ ہم اللہ کے لاکھ شکر گزار ہیں جس نے ہمیں امام سید علی خامنہ ای جیسا عظیم لیڈر دیا جس نے اپنے پچیس سال کی قیادت میں ثابت کیا وہ بےبدل ہیں، بہادر، شجاع اور بابصیرت ہیں۔

دوسرے دن کی دوسری نشست بیداری اسلامی کانفرنس کے نام سے بعد از ظہرین و طعام شروع ہوئی اس کانفرنس میں کراچی سے مولانا علی مرتضیٰ زیدی، نمائندہ رہبر معظم و مسؤل دفتر رہبر آیت اللہ محسن قمی، بزرگ عالم دین علامہ شیخ صلاح الدین اور اطہر عمران نے خطاب کرنا تھا مگر اس اہم ترین پروگرام میں رحمت خدا نے ایسا رنگ ڈالا کہ پنڈال میں ہونیوالی کانفرنس مسجد کی زینت سے سرفراز ہوئی۔ کانفرنس کے دوران ابر کرم کو جب جوش آیا تو آئی ایس او کے جوانوں، مہمانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ شخصیات بھی زیادہ دھلی دھلی نظر آئیں۔ جیسے ہی مولانا علی مرتضیٰ زیدی کا خطاب شروع ہوا بارش نے سارے انتظامات کو گیلا کر دیا۔ مقام حیرت ہے یہ بارش لاہور کے دیگر علاقوں میں نہیں ہوئی مگر بعض علاقوں میں ٹوٹ کر برسی۔ چونکہ علی مرتضیٰ زیدی صاحب اس وقت خطاب میں مصروف تھے اس لیے بارش کا زیادہ نشانہ انہیں بننا پڑا۔ وجہ فقط اتنی تھی کہ سٹیج کے اوپر ٹینٹ کا جھکاؤ تھا۔ چنانچہ شرکاء کانفرنس اس یادگار کنونشن میں ہونے والی رحمت الہی سے مستفید ہوتے ہوئے مسجد آ پہنچے۔ خواہران جو اس پروگرام میں ہر سال خصوصی طور پر شریک ہوتی ہیں انہیں بھی مسجد کے خواتین حصہ میں شفٹ کرنا پڑا، اس دوران جامعہ کے لان میں کئی محبین نے خوب مزے لئے اور سارے جہاں سے بےنیاز بارش میں نہاتے اور ایک دوسر ے پر پانی ڈالتے رہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ تیز برستی بارش میں آئی ایس او کے پرچم لہراتے محبین نہایت خوبصورت نظارہ پیش کر رہے تھے۔

مسجد میں کانفرنس کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ جوڑا گیا اور علی مرتضیٰ زیدی صاحب نے خطاب شروع کیا ابھی شرکاء سے خطاب ہوا ہی تھا کہ نمائندہ رہبر معظم و مسؤل دفتر رہبر آیۃ اللہ محسن قمی تشریف لے آئے ان کی آمد پر انہیں نہایت ہی گرم جوشی سے خوش آمدید کہا گیا، اس طرح جناب علی مرتضی زیدی صاحب کی گفتگو کافی متاثر ہوئی، نمائندہ رہبر معظم و مسؤل دفتر رہبر آیۃ اللہ محسن قمی اور ان کے ہمراہ آنے والے آقا جدی و مہمانان کا بھرپور استقبال نعروں کی گونج میں کیا گیا۔ جوانوں نے رہبر معظم سے اپنی عقیدت کا اظہار فارسی میں شعار بلند کر کے کیا۔ جوانوں کے جذبات و احساسات کا یہ روح پرور منظر دیکھ کر نمائندہ رہبر بھی بہت شاداں و فرحان دکھائی دیئے اور انہوں نے اپنی گفتگو میں اس کا بارہا اظہار بھی کیا، انہوں نے کہا کہ یہ محبت دو طرفہ ہے رہبر معظم بھی آپ جوانوں سے ایسے ہی محبت فرماتے ہیں یہ امت اور امام کا رابطہ ہے جو ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے، اس حوالے سے بتاتا چلوں کہ آپ کے لئے رہبر معظم کے جذبات بھی اسی طرح کے ہیں جس طرح کے آپ کے جذبات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کی جذبات رہبر معظم تک ضرور پہنچاوں گا۔

آئی ایس او پاکستان کے سالانہ مرکزی کنونشن کے موقع پر بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسؤل دفتر رہبری آیت اللہ محسن قمی نے کہا کہ آج عالمی استعمار پوری دنیا میں رسوا ہو چکا ہے اور اس کے مظالم پوری دنیا میں عیاں ہو چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اپنی رسوائی کے غم میں ہی استعمارر اپنی موت خود مرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ باعث فخر ہے کہ میں آج پاکستان کے صالح نوجوانوں کے اجتماع میں رہبر معظم کی نمائندگی کر رہا ہوں، انہوں نے کہا کہ آپ جیسے نوجوان لائق تحسین ہیں جو تمام شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، بالخصوص ترویج اسلام میں آپ کا کردار قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی اہمیت کو سمجھیں اور اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو بھی ملحوظ رکھیں جس سے آپ سرگرم ہیں۔ آپ لوگ رہبر معظم اور حضرت امام زمانہ کیلئے مایہ امید ہیں، آپ دشمن کی آنکھ کا کانٹا ہیں، انہوں نے کہا کہ قرآن نے دو طاقتوں کا ذکر کیا ہے، جو ہمیشہ سے ایک دوسرے کے مدمقابل رہی ہیں۔ ان دو طاقتوں کو قبیلہ تکاثر و کوثر کہا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ص کے مدمقابل ابوجہل، ابوسفیان اور ابولہب تھے، حضرت علی علیہ السلام کے مقابلہ میں معاویہ اور اس کے ہم صفت و ہمنوا آئے، امام حسین علیہ السلام نے یزید کا مقابلہ کیا اور امام خمینی (رہ) کو اسرائیل اور امریکہ کا سامنا تھا لیکن ہمیشہ حق پرست ہی فاتح ٹھہرے ہیں۔

نمائندہ رہبر کا کہنا تھا کہ آپ آئی ایس او کے جوان بھی قبیلہ کوثر سے ہیں جبکہ آپ کے مقابل امریکہ اور اس کے ایجنٹ لشکر تکاثر سے ہیں انہوں نے کہا کہ باطل اپنے زعم میں اس قدر اندھا ہے کہ اگر ایک طرف دنیا کے دو سو ممالک ہوں اور دوسری جانب اکیلا امریکہ ہو تو دو سو ممالک کے موقف کو جھٹلا کر امریکہ کے موقف کی تائید کر دی جائے گی، اس وقت دنیا کے 75 فیصد میڈیا پر امریکہ کی اجارہ داری ہے، یہ وہ تفریق ہے جو دنیا کو تقسیم کرتی ہے۔ 70 سال ہو گئے فلسطینیوں کو ان کی زمین سے نکال دیا گیا وہاں ایک ناجائز ریاست قائم کردی گئی۔ اس باطل ریاست کے خلاف حزب اللہ لبنان نے قیام کیا اور اسے شکست سے دوچار کر دیا۔ آج دنیا میں حق پرستوں کی رہبری یعنی قبیلہ کوثر کا پرچم سید علی خامنہ ای کے پاس ہے۔ یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ کس قوت کا ساتھ دیں گے، قرآن کی رو سے کوثر والے گروہ کا یا تکاثر گروہ، یقیناً آپ کی حمایت کوثر والے گروہ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نوجوانوں سے یہی کہوں گا کہ اپنی راہ متعین کریں، آج استعمار اس لئے اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہے کہ وہ نوجوان نسل کو تسخیر نہیں کر سکا، آپ جیسے صالح نوجوانوں نے اس کے عزائم خاک میں ملا دیئے ہیں لہذا آپ اپنے دوستوں کی بھی تربیت کریں اور انہیں بھی نظریاتی اور فکری طور پر اتنا مضبوط بنا دیں کہ استعمار کی کوئی سازش ان کے ذہن خراب نہ کر سکے۔

آیت اللہ محسن قمی نے کہا کہ نوجوان تعلیمی میدان میں ترقی کریں اور ٹیکنالوجی کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ آپ نے دیکھا کہ ملت ایران کے جوانوں نے ڈرون اتار لیا، حزب اللہ کے جوانوں نے اسرائیل کی ٹیکنالوجی کو مات دیدی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ایٹمی سائنسدانوں کی اوسط عمر چھبیس سال ہے اور یہ بات بھی بتا دوں کہ اسرائیل کو لبنان اور حماس کے ساتھ جنگ میں جن راکٹس اور میزائل نے پسپائی و شکست پر مجبور کیا وہ بھی ایرانی جوانوں کے بنائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ استعمار اسرائیل کو تحفظ دینے کے لئے شیعہ سنی فسادات کرواتا ہے، لیکن ہم واضح کرتے ہیں کہ ہمارے سنیوں، بریلویوں اور سلفیوں کیساتھ کوئی بنیادی اختلافات نہیں، ہاں ایک گروہ سے اختلاف ہے وہ ہے تکفیری گروہ جو اسلام کا چہرہ مسخ کر رہا ہے، جو بچوں اور عورتوں کو نشانہ بناتا ہے اور اسلام کی بدنامی کا باعث بنتا ہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ استعمار ہمیں پابندیوں سے ڈراتا ہے لیکن ہمیں کوئی پرواہ نہیں، ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہوئے ہیں ،ہمیں پتہ ہے کہ ہم حق پر ہیں، اور اس کے لئے ہم ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگلے برس اس پروگرام میں مزید وسعت پیدا کی جائے اور امید ہے کہ پاکستان کے کالجز و یونیورسٹیز کے طلباء کے ساتھ یہاں ایشیائی ممالک کے طلباء کی کانفرنس منعقد ہو گی۔ انہوں نے کہا پاکستان میں رہبر معظم کے نمائندے آیت اللہ ابوالفضل بہاؤالدینی موجود ہیں جن سے آپ رابطہ میں ہیں۔ انہوں نے امام خمینی(رہ) کا ایک واقعہ بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا ہماری امریکہ سے دشمنی اصولی ہے۔ ایران میں خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔ آئی ایس او کے مرکزی صدر اطہر عمران طاہر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

وقفہ نماز مغربین کے بعد شب شہداء شروع ہوئی۔ شب شہدا ء کے آغاز میں ’’ماویٰ‘‘ کے تعاون سے ڈٖاکٹر شہید اور تنظیمی اقدار کے عنوان پر محبین میں ایک سوالنامہ تقسیم کیا گیا اور ان محبین میں ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی کی تصاویر کے تحائف تقسیم کئے گئے اور خوبصورت جوابات دینے والے محبین میں بذریعہ قرعہ اندازی دیگر انعامات کا بھی اعلان کیا گیا۔ شب شہداء میں شور کوٹ، لاہور، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں سے سے خانوادگان شہداء شریک ہوئے، اس اہم نشست میں پاکستان میں رہبر معظم کے نمائندہ خصوصی آیت اللہ ابوالفضل بہاؤالدینی کی شرکت نے چار چاند لگا دیئے۔ اس موقعہ پر شہید فاؤنڈیشن کی طرف سے ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا جسے شرکاء نے بےحد پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ اس پروگرام میں سینئر ساتھی سید امجد علی کاظمی، فرزند ڈاکٹر شہید سید موسیٰ نقوی اور رہبر معظم کے نمائندہ خصوصی آیۃ اللہ ابوالفضل بہاؤالدینی نے خصوصی گفتگو کی۔ اس موقعہ پر شہداء کے خانوادگان میں خصوصی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

مرکزی کنونشن کے تیسرے اور آخری روز صبح نماز و دعا کے بعد اسٹڈی سرکل ہوا، جس میں مختلف علماء کرام نے طلباء کی رہنمائی فرمائی، بعد از ناشتہ طلباء میں انعامات و شیلڈز تقسیم کی گئیں، یہ پروگرام بھی مسجد میں منعقد کیا گیا، مختلف کیٹیگریز میں انعامات تقسیم ہوئے۔ محبین کی خصوصی نشست میں آقایٰ امداد شجاعی نے دوستی کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیا جبکہ اسی دوران کنونشن ہال میں سابقین کا کنونشن منعقد کیا گیا اس بار سابقین کو خصوصی طور پر دعوت دی گئی تھی، سابقین کنونشن میں کثیر تعداد میں شریک ہوئے، سابقین ڈیسک کی طرف سے سابق مرکزی صدر ملک اعجاز نے وہ تاریخ بیان کی کہ کس طرح یہ شعبہ فعال ہوا اور اب تک اس کی کارکردگی کیا رہی، اس موقع پر ادارہ المہدی جو تنظیم کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے کی کارکردگی پر مکمل پریزنٹیشن احسن نے پیش کی۔ جبکہ پروگرام کو دانش نقوی نے کنڈکٹ کیا، سابقین کی طرف سے سینئرز میں ڈیٹا فارم بھی تقسیم کیا گیا جس میں ان سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنی دلچسپی کا کوئی ایک شعبہ بتائیں جس میں وہ تنظیم کی بہتری کیلئے مدد کر سکتے ہو، اس دوران احباب کو بتایا گیا کہ تنظیم نے اپنی مالی مشکلات کے حل کیلئے ایک باکس سسٹم کا اجراء کیا ہے جسے تمام ڈویژنز تک پھیلایا جائے گا۔

اسی دوران مرکزی مجلس عمومی کا اہم ترین اجلاس برائے انتخاب مرکزی صدر منعقد کیا گیا، اراکین کے سامنے مجلس عاملہ کے گذشتہ رات کو ہونے والے اہم اجلاس کے نتیجہ میں فائنل ہونے والے دو نام پیش کئے گئے یہ نام ابوذر نائب صدر و چیئرمین کنونشن اور اطہر عمران طاہر کے تھے، مرکزی الیکشن سیل کی موجودگی میں برادران نے اپنی آرا ء کا اظہار کیا، ووٹنگ کا پراسس مکمل ہونے کے ساتھ ہی وقفہ نماز ہو گیا جس کے بعد اس کنونشن کی آخری اہم ترین نشست اعلان مرکزی صدر و حلف برداری کا دلچسپ مرحلہ آن پہنچا اس نشست کو بزرگ عالم دین آغا سید علی ال موسوی کے نام سے منسوب کیا گیا تھا، جس میں کثیر تعداد میں علماء نے شرکت کی، جبکہ جامعۃ المنتظر کے پرنسپل علامہ قاضی نیاز حسین نقوی اور نمائندہ رہبر معظم آیۃ اللہ محسن قمی نے بھی اپنے وفد کے ساتھ شرکت فرمائی، جامعۃ المنتظر کے پرنسپل علامہ قاضی نیاز حسین نقوی نے اختتامی نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس او پاکستان ایک ملک گیر نمائندہ طلباء جماعت ہے اس کی ذمہ داریاں بھی اہم ہیں یہ جہاد کر رہی ہے، اور اس کے مسئولین کہ جو تربیت کا برنامہ بناتے ہیں ان سے کہوں گا وہ اس طرف زیادہ توجہ دیں اور اتحاد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ جانے ولایت فقیہ کے سب پیروکار ایک جگہ جمع کیوں نہیں ہیں حتیٰ یوم القدس بھی لاہور میں تین جگہ ہوا یہ ایک جگہ کیوں نہیں ہو سکا، انہوں نے کہا کہ آئی ایس او ایک مستقل تنظیم ہے جس کا اپنا دستور العمل ہے قوم آئی ایس او کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رہبر معظم بھی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اہمیت دیتے ہیں، اس تنظیم کو اپنا تشخص برقرار رکھنا چاہیئے اس طرح اگر آئی ایس او کسی سے وابستہ ہو گی تو اس جماعت کی خامیاں اس کی خامیاں بن جائیں گی اور اس کی کامیابیاں اس جماعت کی کامیابیاں بن جائیں گی، انہوں قوم کو وحدت کی تاکید کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ تنظیم کو اپنے دستور میں تبدیلی کرنی چاہیئے مرکزی صدر کو ایک سال میں ہی فارغ نہ کیا جائے۔ بزرگ عالم دین محترم حیدر علی جوادی جو رکن مجلس نظارت بھی ہیں کو مرکزی صدر کے اعلان کے لیے دعوت دی گئی تو سب کی دھڑکنیں تیز ہو گئی، امامیہ اسکاؤ ٹس کے دستے چاک و چوبند نظر آنے لگے، پھولوں کے ہار علماء و سینئرز کے ہاتھ میں پہنچ گئے۔ شرکاء نے پھولوں کی پتیاں تیار کر لیں اور نعرے بازوں نے اپنے گلے صاف کرنا شروع کر دیئے، کیمرہ مینوں نے فریم سیدھے کر لئے امریکہ کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہونے کو ہے۔

علامہ حیدر علی جوادی صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے نیت یعنی کسی بھی عمل کرنے کیلئے قوہ محرکہ کا نام نیت ہے، نیت کا تعلق زبان سے نہیں بلکہ ارادہ و سوچ سے ہے، انہوں نے کہا کہ تسبیح کے دانوں کی طرح ہو جاؤ اگر بکھرو گے تو دانے رہ جاؤ گے، تسبیح کوئی نہیں کہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو حلف نومنتخب صدر اٹھائے گا وہ آپ سب کا بھی حلف ہو گا۔ اس کے بعد جیسے ہی علامہ حیدر علی جوادی نے اطہر عمران طاہر کے دوبارہ منتخب ہونے کا اعلان کیا تو فضا اطہر بھائی قدم بڑھاؤ ہم تمھارے ساتھ ہیں، امریکہ کی شامت آئی اطہر بھائی اطہر بھائی کے نعروں سے گونج اٹھی۔ علامہ حیدر علی جوادی نے نومنتخب مرکزی صدر برادر اطہر عمران طاہر سے مسئولیت کا حلف لیا۔ حلف برداری کے بعد آقایٰ احمد اقبال رضوی نے دعائے وحدت سے مرکزی کنونشن امید مستعضفین جہاں کا باقاعدہ اختتام کیا۔ جس کے بعد ریگل چوک سے اسمبلی ہال تک حمایت مظلومین جہاں ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے اختتام پر آقایٰ ابوذر مہدوی اور نومنتخب مرکزی صدر اطہر عمران طاہر نے خطاب کیا۔ جس کے بعد قرادادیں پیش کی گئیں جو شرکاء ریلی نے متفقہ طور پر منظور کیں۔