امید مستضعفین جہاں کنونشن۔۔۔۔۔میں نے دیکھا PDF Print E-mail
Written by ارشاد حسین ناصر   
Sunday, 06 October 2013 21:23

پاکستان کے امامیہ طلباء کے واحد ملک گیر، منظم، جمہوری پلیٹ فارم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے سب سے بڑے سالانہ ایونٹ یعنی مرکزی کنونشن میں بلاشبہ ہزاروں پر جوش، باتقویٰ، امید ملت طلباء نے تین دن تک لاہور میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کی اور اس دوران شعور و فکر کی بلندی، تہذیب نفس، تنظیمی تربیت، حالات حاضرہ سے آگاہی، روابط بین المومنین، شہداء کے تذکر اور مختلف شخصیات سے ملاقاتوں کا شرف حاصل کیا، 27 ستمبر سے 29 ستمبر تک امید مستضعفین جہان کنونشن کے نام سے اس الہٰی کاروان کا یہ بیالیسواں سالانہ مرکزی کنونشن تھا، میرے لئے یہ اعزاز تھا کہ میں نے اپنی تنظیمی زندگی کا 26واں مرکزی کنونشن اٹینڈ کیا تھا۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے سالانہ مرکزی کنونشنز بذات خود ایک الگ تاریخ رکھتے ہیں، ہر سال جہاں کنونشن کا ایک ایجنڈا فائنل کرکے اسے نشر کیا جاتا ہے، وہاں اس چیز کا خیال بھی رکھا جاتا ہے کہ وقت کے تقاضے کیا ہیں اور حالات کا رخ و صورت کیا ہے، ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے موضوعات فائنل کئے جاتے ہیں، علماء کرام باقاعدہ تیاری کرکے نہایت جانفشانی کے ساتھ لیکچرز تیار کرتے ہیں۔ اس بار اسلامی دنیا میں برپا بیداری کی تحریکوں سے اظہار یکجہتی کیلئے عالمی اسلامی بیداری کانفرنس منعقد کی گئی، جبکہ ریلی کا نام حمایت مظلومین جہاں ریلی تھا۔ کنونشن میں، میں نے دیکھا کہ ملک کے گوش و کنار سے ہر علاقہ و ثقافت کے دوست شریک تھے جو باہم کسی تفریق و تعصب کا شکار نہ تھے بلکہ ان میں اخوت و محبت کے رنگ دیکھے جا سکتے تھے، بھائی چارہ کی مثالی فضا تھی۔ ایک دوسرے کیلئے نیک و بھلے جذبات تھے، احساس تھا۔

مجموعی طور پر تنظیمی ماحول کی یہ خوشبو ہر شریک محفل کو بہت بھاتی ہے، جب مختلف عمروں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کو نہایت احترام اور شیریں انداز میں بھائی کہہ کر یا آغا جان کہہ کر پکارتا ہے تو دل میں اتر جاتا ہے۔ گویا ہر طرف آغا ہی آغا تھے۔ یہی وہ ماحول ہوتا ہے جسے پا کر کوئی بھی دوست ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ آئندہ برس اس پروگرام میں لازمی شریک ہو۔ میرا خیال ہے آج جب مہنگائی کا زور عروج پر ہے، تعلیم کے سمسٹر سسٹم نے طلباء کو ہر چیز سے بیگانہ کر دیا ہے، ایسے میں وقت نکال کر اور پیسہ جیب سے خرچ کرکے تین دن کا ہروگرام اٹینڈ کرنا واقعاً خلوص و جذبوں کی صداقت کے بغیر ممکن نہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے نوجوان قومی حوالے سے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ (کنونشن میں اگر کوئی اسکردو یا گلگت و کراچی سے شریک ہوا ہے تو اس کو اوسطاً دس ہزار روپے کا خرچہ کرنا پڑا ہے جو ایک اسٹوڈنٹ کیلئے ناقابل برداشت ہوتا ہے، ہاں اس سالانہ پروگرام کیلئے برادران پہلے سے وسائل کو آمادہ کرنے کا اہتمام کرتے ہیں)

کنونشن کے حوالے سے چند قابل غور پہلو:
نمائندگان رہبر معظم کی شرکت
یوں تو اس کنونشن میں سینکڑوں کی تعداد میں علماء کرام و بزرگان شریک ہوئے، جن سب کے نام لکھنا ممکن نہیں مگر ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف سے ان کے دفتر کے مسئول آیت اللہ محسن قمی اور نمائندہ رہبر برائے پاکستان آیت اللہ ابوالفضل بہاؤالدینی نے شرکت فرما کر یہ بات سب پر واضح و ثابت کر دی کہ آئی ایس او ہی طلباء کی نمائندہ و پیرو ولایت تنظیم ہے جس کا ارتباط رہبر معظم کے ساتھ ڈائریکٹ ہے اور اس موقع پر جو پیغام نمائندگان رہبر نے دیا وہ بہت ہی غور طلب ہے، ان کا کہنا تھا کہ امامیہ نوجوانوں کی رہبر معظم سے محبت دراصل دوطرفہ ہے۔ علماء و نمائندگان رہبر معظم کی بھرپور شرکت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ یہ تنظیم ہمیشہ کی طرح علماء کی رہنمائی و ولایت فقیہ کے سائے تلے اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کرنے والوں کے مقاصد درحقیقت اپنی چوہدراہٹ کو مضبوط کرنا ہے۔

جامعۃ المنتظر کا تعاون
آئی ایس او پاکستان کا محسن ملت مرحوم قبلہ صفدر حسین نجفی صاحب سے تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جامعۃ المنتظر اور پاکستان کے دیگر اداروں و تنظیموں بالخصوص آئی ایس او کیلئے ان کی خدمات کا دائرہ بے حد و حساب وسیع ہے، جامعہ میں ان کے زمانے سے ہی یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ مرکزی کنونشن اس تاریخی و عظیم درسگاہ میں منعقد کیا جاتا ہے، ان کے بعد آنے والے مدیران نے بھی اس سلسلہ کو تمام تر مشکلات کے باوجود جاری رکھا ہے جو یقیناً قابل ستائش ہے۔ قبلہ قاضی نیاز حسین و جناب حافظ ریاض حسین نجفی نے بھی اپنے تئیں ہر ممکن تعاون جاری رکھتے ہوئے اس حوالے سے تنظیم کی کمک کی ہے۔ کنونشن کی آخری نشست میں قبلہ قاضی نیاز حسین نقوی کے جذبات قابل ستائش و عمل تھے، ان کی نصیحتیں پلے باندھنے والی تھیں۔

شہداء کی یاد اور متلاش نگاہیں
آئی ایس او پاکستان کے اس سالانہ مرکزی کنونشن میں گذشتہ کنونشنز کی طرح ایک پروگرام شب شہداء کے عنوان سے منایا گیا، اس پروگرام کا بنیادی ہدف ملت کے ان محسنوں اور ان کے کارناموں کو یاد کرنا ہے جن کی عظیم قربانیوں کی بدولت ہم سرخرو ہیں اور ان کے محترم ورثاء و خانوادگان کو محفل میں شریک کرکے ان کے حوصلوں اور انکے احساسات کو نئی نسل میں منتقل کرنا ہوتا ہے، تاکہ وقت اور بدلتے حالات ان میں فاصلے پیدا نہ کرسکیں اور شہداء کا ذکر تو دلوں اور روحوں میں اتر کر ایسے تازگی پیدا کر دیتا ہے جس کا اثر انسان بہت دیر تک محسوس کرتا ہے۔ شہداء کی اس صف میں کچھ ایسے شہداء بھی ہیں جن کو بھلانا چاہیں بھی تو ممکن نہیں۔ جو ہر لمحہ یاد رہتے ہیں، جن کی خدمات و یادوں کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ایسے پروگراموں کے ہر لمحہ میں ان کی کمی کا احساس رہتا ہے، اگرچہ وہ ضرور تشریف لاتے ہیں۔ کنونشن میں ہروقت ہماری نگاہیں متلاشی تھیں، ہر لمحہ یہ احساس رہتا تھا کہ ابھی کہیں سے ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی، ڈاکٹر قیصر عباس سیال آجائیں گے اور پھر یہ بھی خیال آتا تھا کہ ولی فقیہ کے نمائندگان تشریف لائے ہیں تو امام خمینی کے فرزند شہید عارف الحسینی اپنی بااعتماد ٹیم کے ساتھ استقبال کیلئے ضرور آئی ہوگی کہ کہیں نوجوانوں سے معزز مہمان کی خاطر مدارت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔

سابقین کا اکٹھ
یوں تو ہر سال کنونشن میں تنظیم کے سابقین بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں، مگر امسال اس حوالے سے خصوصی توجہ دیتے ہوئے سابقین کو پورے پاکستان سے شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی تھی، اس حوالے سے بھی کافی حد تک کامیابی ملی اور سینئرز و جونیئرز میں چند سالوں سے نظر آنے والے فاصلوں کو کم کرنے اور باہمی اعتماد بڑھانے میں مدد ملی۔ سابقین جو تنظیم کا قیمتی اثاثہ ہیں، انکا اس موقعہ پر اکٹھ تنظیمی فعالیت کی علامت ہے، تقریباً تین سو سابقین مجموعی طور پر اس کنونشن میں شریک نظر آئے۔ امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اس قیمتی اثاثہ کیساتھ روابط میں بہتری سے تنظیم کی فعالیت میں خاطر خواہ تقویت و مضبوطی آئے گی۔

حمایت مظلومین جہاں ریلی
کنونشن کی یہ روایت بھی بڑے اچھے طریقہ سے تسلسل سے برقرار ہے کہ آخری روز اعلان مرکزی صدر کے بعد مال روڑ پر ریلی نکالی جاتی تھی مگر گذشتہ کنونشن پر بوجوہ ایسا نہ ہوسکا تھا، اس برس مال روڑ پر حمایت مظلومین جہاں ریلی نکالی گئی، جس سے نومنتخب مرکزی صدر برادر اطہر عمران و مولانا ابوذر مہدوی نے خطاب کیا۔
سابق مرکزی صدور کی شرکت
کنونشن میں جہاں دیگر سینئرز موجود تھے، وہاں سابق مرکزی صدور کی بھی بھرپور نمائندگی تھی، سابق مرکزی صدر برادر اعجاز حسین ملک، سابق مرکزی صدر برادر ڈاکٹر شبیر سبزواری، سابق مرکزی صدر برادر سید حسنین عباس گردیزی، سابق مرکزی صدر برادر علی رضا بھٹی، سابق مرکزی صدر برادر بشارت علی قریشی، سابق مرکزی صدر برادر سرفراز حسینی، سابق مرکزی صدر برادر فرحان حیدر زیدی، سابق مرکزی صدر برادر ناصر عباس شیرازی، سابق مرکزی صدر برادر سید حسن زیدی، سابق مرکزی صدر برادر یافث نوید ہاشمی، سابق مرکزی صدر برادر عادل بنگش کنونشن میں تسلسل سے موجود رہے۔

نوٹ:
کنونشن میں برادران کی بھرپو رشرکت سے بہت سے برادران نے یہ محسوس کرتے ہوئے اس امر کا اظہار بھی کیا کہ موجودہ جگہ کنونشن کیلئے کافی کم ہے اور بہت سے احباب، علماء کرام و مہمانان گرامی کو اس طرح نہیں بٹھایا جاتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں، لہذا اس بارے میں مسؤلین کو اگلے برسوں کی پلاننگ پہلے سے کرنی چاہیئے۔ جو برادران تین دن کیلئے طویل مسافت کرکے یہاں پہنچتے ہیں انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ وقت بہت ہی قیمت رکھتا ہے، ان تین دنوں میں اس کو ضائع ہونے سے بچانا چاہیئے اور اپنے علاقائی مسئولین کے ساتھ تعاون کا رویہ اختیار کرنا چاہیئے، خصوصی طور پر امامیہ اسکاؤٹس کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیئے، تاکہ ہر پروگرام بروقت شروع ہوسکے، مسئولین بھی کارکنان پر اپنی گرفت کو ڈھیلا نہ چھوڑا کریں۔