لا حکم الا للہ کے پرچم PDF Print E-mail
Written by سید اسد عباس تقوی   
Sunday, 06 October 2013 21:19

کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ اور مہر نبوت پر مشتمل سیاہ و سفید پرچم آج دنیا کے مختلف محاذوں پر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ یہ پرچم مختلف قومیتوں کے افراد اپنے اپنے علاقوں میں لڑی جانے والی جنگوں میں اٹھائے پھرتے ہیں۔ کبھی یہ جھنڈا امارات اسلامیہ افغانستان کے لیے لڑنے والے طالبان کے ہاتھوں میں نظر آتا ہے تو کبھی الدولۃ الاسلامیہ فی العراق و بلاد الشام کے جنگجوؤں کی گاڑیوں پر لگا نظر آتا ہے۔ یہی جھنڈا افریقہ میں الشباب نامی تنظیم کے جوان اٹھائے نظر آتے ہیں۔ لیبیا، مصر، تیونس، لبنان اور یمن میں بھی یہ جھنڈے دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ جھنڈا اس گروہ کا ہے جو عالم اسلام اور دنیا بھر میں امارت اسلامیہ قائم کرنے کا دعوے دار ہے۔ یہ گروہ ایک مخصوص مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے اور حکومت اسلامی کے قیام کے حوالے سے ایک خاص منہج رکھتا ہے۔ اس گروہ کا ایک شعار لا حکم الا للہ بھی ہے۔ یہ گروہ امت اسلامیہ کے تمام مسائل کے حل کو عسکری جدوجہد میں پنہاں دیکھتا ہے۔ اسی لیے جنگی محاذوں پر اس پرچم کے حامل افراد زیادہ دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس گروہ کے مطابق امت مسلمہ کے مسائل کا حل عالمی خلافت کے قیام میں ہے اور عالمی اسلامی خلافت بزور شمشیر ہی قائم کی جاسکتی ہے۔ 

اس گروہ کا نظریہ ہے کہ مسلمان حاکم عالمی استعماری قوتوں کے کاسہ لیس ہیں، لہذا وہ کبھی بھی امت کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں ہو سکتے۔ یہ گروہ اسلامی ممالک کے آئین، قانون، ریاست اور اداروں کو نہیں مانتا۔ نہ صرف یہ کہ نہیں مانتا بلکہ اس کے خلاف اپنی اپنی استطاعت کے مطابق برسر پیکار بھی ہے۔ الشباب افریقہ میں، الدولۃ الاسلامیہ فی العراق اور اس کی ذیلی شاخیں عراق، شام اور اردن میں، تحریک طالبان پاکستان اور اس کی ذیلی تنظیمیں پاکستان میں، تحریک طالبان افغانستان اور اس کی ذیلی تنظیمیں افغانستان میں اور اسی طرح یمن، لیبیا، تیونس اور مصر میں یہ گروہ اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔

پاکستان کو اس گروہ کی پہلی نرسری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ گروہ پاکستان کے صوبہ سرحد جسے اب خیبر پختونخوا کہا جاتا ہے، میں افغان جہاد کے دوران پیدا ہوا۔ یہیں پروان چڑھا، جوان ہوا اور پھر ایک وقت وہ آیا کہ پورے عالم اسلام میں پھیل گیا۔ عالم اسلام کے مختلف ممالک میں قائم بادشاہتیں، آمریتیں اور کٹھ پتلی حکومتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس گروہ کی افزائش کا سبب ہیں۔ عالم اسلام کے نوجوان جب اپنے معاشرے میں موجود سیاسی نظاموں سے مایوس ہو جاتے ہیں تو ان کی آخری منزل یہی عسکری گروہ ہوتا ہے۔ یہ گروہ ان نوجوانوں کے ذہنوں میں خلافت اسلامیہ کے قیام کے خواب روشن کرتا ہے اور اس خلافت کے قیام کے لیے قربانیاں دینے پر ابھارتا ہے۔

بہت سے مسلم ممالک میں اس گروہ کی کارروائیاں اور کامیابیاں مسلمان نوجوانوں کو اپنی جانب جذب کرتی ہیں۔ افغانستان کو ہی لے لیجئے، تحریک طالبان افغانستان نے اپنے ملک میں جارح افواج کے خلاف بہت سی کامیاب کارروائیاں کیں ہیں۔ خوست، لوگر، کابل، قندھار اور بلگرام میں اس تحریک کے جنگجوؤں نے نیٹو افواج کے پورے کے پورے کیمپس کو اڑا دیا۔ یہ لوگ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ہم اسلام کی سربلندی چاہتے ہیں۔ ہم قرآن اور نبی کریم ؐ کے گستاخوں سے بدلہ لے رہے ہیں۔ تحریک طالبان افغانستان نیٹو فورسز کی مدد سے قائم ہونے والی کرزئی حکومت کو مزدور حکومت کے نام سے پکارتی ہے اور اس حکومت کے اداروں اور افراد پر بھی حملے کرتی ہے۔ اسی طرح عراق میں الدولۃ الاسلامیہ فی العراق کے جنگجوؤں نے بڑی بے جگری سے اتحادی افواج کا مقابلہ کیا۔ اتحادی افواج کے عراق سے انخلاء میں دیگر گروہوں کے ساتھ ساتھ اس گروہ کے افراد کا بھی سہم ہے۔

تاہم معاملہ اس وقت بگڑ جاتا ہے جب ان کے سامنے اختلافی مکتب کا حامل کوئی دوسرا مسلمان گروہ آجائے۔ تحریک طالبان افغانستان کے جنگجوؤں کا روس، امریکہ اور نیٹو افواج کے خلاف ردعمل لائق تحسین ہے، لیکن اس گروہ نے جس بے دردی سے ہزارہ، ازبک اور تاجک افغانیوں کا قتل عام کیا، وہ قابل معافی نہیں۔ الدولۃ الاسلامیہ فی العراق امریکیوں کے چلے جانے کے بعد اب بھی عراق کے مختلف شہروں میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں سینکڑوں کی تعداد میں عام عراقی شہری قتل ہوتے ہیں۔ اس جارحیت اور سفاکیت سے کیسے صرف نظر کیا جاسکتا ہے۔ یہی گروہ جب اپنے آپ کو الدولۃ الاسلامیہ فی العراق و بلاد الشام کے نام سے متعارف کروا کر عام مسیحی راہبوں کو قتل کرتا ہے اور شامی حزب اختلاف جیش الحر کے باغی فوجی کمانڈروں کے گلے صرف اس لیے کاٹتا ہے کہ وہ ہماری اطاعت نہیں کرتے اور ہمارے امیر کی بیعت میں نہیں آتے تو اسے کیسے درست کہا جاسکتا ہے۔

اسلام میں عسکری جدوجہد کے قوانین بہت واضح ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر تلوار اٹھانے والے کو تنبیہ کیا کرتے تھے کہ کفار اور مشرکین کے بچوں، عورتوں، بوڑھوں کو قتل نہ کرنا، ثمر بار درختوں کو نہ کاٹنا، کسی انسان کا مثلہ نہ کرنا، کسی جانور کا مثلہ نہ کرنا۔ رسول اکرم (ص) کے یہ احکامات کتب احادیث میں جابجا دیکھے جاسکتے ہیں۔ چند ایک احادیث تبرکا پیش خدمت ہیں:
امام ابو داؤد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ولا تقتلوا شیخا فانیا ولا طفلا ولا صغیرا ولا امراۃ۔ 1
نہ کسی بوڑھے کو قتل کرو، نہ شیر خوار کو، نہ نابالغ کو اور نہ عورتوں کو۔
یہاں قابل ذکر ہے کہ کہیں بھی اجازت نہیں دی گئی کہ اگر وہ تمہارے بچے، بوڑھے اور خواتین ماریں تو جواباً تم بھی ان کے بچے، بوڑھے اور عورتیں مار سکتے ہو۔

سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے مروی حدیث نبوی کو امام بیہقی نے بیان کیا ہے، جس میں مندرجہ بالا طبقات کا اکٹھا اور قدرے تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اسلامی لشکر کو مشرکین کی طرف روانہ فرماتے تو یوں ہدایات دیتے:
ولا تقتلوا ولیدا طفلا، ولا امراۃ، ولا شیخا کبیرا، ولا تغورن عینا، ولا تعقرن شجرۃ الا شجرا یمنعکم قتالا، ولا تمثلوا بآدمی ولا بھیمۃ، ولا تغدروا ولا تغلوا.۔ 2
کسی بچے کو قتل نہ کرنا، کسی عورت کو قتل نہ کرنا، کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا، چشموں کو خشک و ویران نہ کرنا، جنگ میں حائل درختوں کے سوا کسی دوسرے درخت کو نہ کاٹنا، کسی انسان کا مثلہ نہ کرنا، کسی جانور کا مْثلہ نہ کرنا، بدعہدی نہ کرنا اور چوری و خیانت نہ کرنا۔

انہی مفاہیم پر مشتمل دیگر احادیث میں کلیساؤں کے متولیوں (یعنی پادریوں)، کسانوں، تاجروں، مزدوروں اور ان افرد کو جو جنگ میں براہ راست شریک نہ ہوں، قتل کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔

مصنف عبدالرزاق میں روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ فرمایا کرتے تھے:
زخمی کو مزید زخمی نہ کرو، قیدی کو قتل نہ کرو اور بھاگنے والے کا تعاقب نہ کرو۔ 3
نہیں معلوم کہ وہ لوگ جو غیر مسلموں کے ہوٹلوں، سکولوں، کلیساؤں اور عمارتوں پر حملے کرکے اپنے آپ کو بڑا جہادی تصور کرتے ہیں، وہ کس جہادی روش پر عمل پیرا ہیں۔ حضرت یحیٰی بن سعید بیان کرتے ہیں کہ انہیں بتایا گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شام کی طرف کچھ لشکر روانہ کرتے ہوئے یزید بن ابی سفیان کی طرف آئے اور اْسے فرمایا:
میں تمہیں دس چیزوں کی وصیت کرتا ہوں: کسی بچے، عورت، بوڑھے اور بیمار کو ہرگز قتل نہ کرنا، اور نہ ہی کوئی پھل دار درخت کاٹنا، اور نہ ہی کسی آباد گھر کو ویران کرنا، اور نہ ہی کسی بھیڑ اور اونٹ کی کونچیں کاٹنا، اور کھجوروں کے پودوں کو مت کاٹنا نہ انہیں جلانا، اور مال غنیمت کو تقسیم کرنے میں دھوکہ نہ کرنا اورنہ ہی بزدل ہونا۔ 4 

ان روایات کی روشنی میں ایک بات تو یقینی ہے کہ اسلام 9/11 جیسے حملوں کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ مسلمان کو اجازت نہیں ہے کہ وہ جہاد کے نام پر کسی نہتے غیر مسلم کو قتل کرے، نہ ہی وہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، بیماروں، قیدیوں کو قتل کرسکتا ہے۔ مسلمان کو یہ بھی اجازت نہیں کہ وہ غیر مسلموں کے عبادت خانوں، تعلیمی اداروں اور غیر فوجی اداروں کو نقصان پہنچائے۔ مسلمان غیر مسلموں کے باغات کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، ان کے چشموں کو ویران نہیں کرسکتا۔ کجا یہ کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اس قسم کے اقدامات کرنے لگ جائے۔ یہ جہاد نہیں بلکہ فتنہ ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان خود اسلام کو پہنچ رہا ہے۔ 

ان جہادی کارروائیوں کے سبب جہاد اسلامی کی جو تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے، وہ کسی بھی ہلاکویت اور چنگیزیت سے کم نہیں۔ اسی فتنہ انگیزی کی ایک مثال ہمیں صدر اسلام میں بھی نظر آتی ہے۔ وہ لوگ جنہیں آج ہم خوارج کے نام سے جانتے ہیں، وہ بھی اپنے آپ کو سچا اور خالص مسلمان سمجھتے تھے۔ لوگ ان کی پیشانیوں پر کثرت سجود کی وجہ سے پڑے ہوئے گٹھوں اور تلاوت قرآن کی زیادتی کے سبب ان کے بارے تذبذب کا شکار تھے۔ حضرت علی (ع) نہ ہوتے تو شاید اس فتنے کو کوئی نہ پہچان سکتا۔ آپ خود اس جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اے لوگو! میں نے فتنے کی آنکھ پھوڑ دی، جب اس کی تاریکیاں تہہ و بالا ہو رہی تھیں اور باؤلے کتوں کی مانند اس کی دیوانگی زوروں پر تھی، میرے سوا کسی میں یہ جرات نہ تھی جو اس کی طرف بڑھتا"۔ 5   
کیا آج بھی ہمیں علی (ع) جیسے کی ضرورت نہیں؟

حوالہ جات
1۔ ابو داؤد، السنن، کتاب الجہاد، باب دعاء المشرکین، 3 : 37، رقم : 2614 2۔ بیھقی، السنن الکبریٰٰ، 9 : 90، رقم : 17934
3۔ عبد الرزاق، المصنف، 10 : 123، رقم : 18590
4۔ مالک، الموطا، کتاب الجہاد، باب النھی عن قتل النساء والولدان فی الغزو، 2 : 447، رقم : 965
5۔ نہج البلاغہ، سید رضی، خطبہ نمبر91