پاکستان میں دہشتگردی کے فروغ میں بھارت اب بھی سرگرم عمل ہے، منور حسن PDF Print E-mail
Written by Administrator   
Sunday, 06 October 2013 21:30

سید منور حسن امیر جماعت اسلامی پاکستان ہیں۔ متحدہ ہندوستان میں 1944ء میں پیدا ہونے والے سید منور حسن نے نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے کراچی یونیورسٹی میں طلباء سیاست کا آغاز کیا مگر حصول تعلیم کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق بڑھنے پر جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا ابوالاعلٰی مودودی کی انقلابی تحریروں سے متاثر ہوکر سوشلسٹ نظریات رکھنے والی این ایس ایف کو چھوڑ کر اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز جماعت اسلامی سے کیا۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے بعد انہیں امیر جماعت اسلامی منتخب کرلیا گیا۔ وہ امریکہ مخالف مگر طالبان اور القاعدہ کے بڑے سپورٹر سمجھے جاتے ہیں۔ لاہور میں ’’اسلام ٹائمز ‘‘سے انٹرویو میں انہوں نے بین الاقوامی حالات اور پنجاب یونیورسٹی سے دہشتگرد کی گرفتاری پر کیا کہا، قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام ٹائمز: آپ نے اسلامی تحریکوں کی عالمی کانفرنس بلائی، اسکا مقصد کیا تھا اور کیا آپ اس مقصد میں کامیاب ہوئے۔؟

سید منور حسن: امت اس وقت جن مصائب و مشکلات کا شکار ہے، اسے اس گرداب سے نکالنے کے لئے اُمہ میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کو پیش نظر رکھ کر ہم نے جماعت اسلامی پاکستان کے زیراہتمام گذشتہ دنوں لاہور میں اسلامی تحریکوں کی عالمی کانفرنس منعقد کی، جس میں 40 سے زائد اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ یورپی ممالک نے آپس میں اتفاق کی مثال قائم کرکے یورپی یونین بنا لی مگر ہم جو دنیا کی ایک بڑی قوت ہیں، جو اسلام کے اخوت کے رشتہ کے تحت ایک لڑی کے دانے ہیں، ہم اپنی کوئی اسلامی یونین نہیں بناسکے۔ یہاں او آئی سی کی حیثیت مردہ گھوڑے کی سی ہو کر رہ گئی ہے، ہماری اسی نااتفاقی اور غفلت کے سبب ہی ہمیں دنیا بھر میں مار پڑ رہی ہے۔ اس سلسلہ میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تھا، اسلامی ممالک کے عوام کے دل تو ایک ساتھ دھڑکتے ہیں مگر ہماری قیادتوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ ہماری نااتفاقی کے سبب ہی جہاں جہاں اسلامی تحریکیں کامیابی حاصل کرتی ہیں، اسلام دشمن قوتیں انہیں بلڈور کرنے کے لئے میدان میں آ جاتی ہیں۔ مغربی ممالک اور یورپی یونین الجزائر ہو یا فلسطین، جہاں جہاں اسلامی تحریک کامیابی حاصل کرتی ہے، وہاں الٹا حکومتوں کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتی ہیں۔

الجزائر اور فلسطین میں اسلامی جماعتوں کی حکومتوں کو ختم کر دیا گیا، اس کے بعد حالیہ دنوں میں مصر میں قائم ہونے والی اسلامی حکومت پر بھی شب خون مارا گیا۔ مصر کے عوام کی منتخب حکومت کو ٹینکوں توپوں کی طاقت سے ختم کر دیا گیا۔ ایسے میں یورپی یونین خاموش تماشائی بنی رہی۔ امریکہ اور برطانیہ کو سڑکوں پر عوام کا بہتا ہوا خون نظر نہیں آیا، یہ وہ ممالک ہیں جو انسانی حقوق کے علمبردار بنے پھرتے ہیں۔ اسلام دشمن ایجنڈے پر امریکہ ہو یا روس سب ہی ایک ہی ہیں۔ اگر بکھرے ہوئے ہیں تو مسلمان ہیں۔ جو اپنے حقوق کے لئے بھی آواز بلند نہیں کرسکتے۔ عالمی اسلامی تحریکوں کا یہ اجلاس پورے عالم اسلام اور دنیا بھر میں مظالم کا شکار مسلمانوں کے حوصلے بلند کرنے کا سبب بنے گا، آج بنگلہ دیش جیسے اسلامی ملک میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو سزائے موت دی جا رہی ہے، دنیا میں سزائے موت پر احتجاج کرنے والے ممالک اور پاکستان میں سزائے موت کے لئے دن رات شور شرابہ کرنے والی نام نہاد این جی اوز اس بات پر خاموش ہیں۔ اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں کی کانفرنس طلب کرکے ہم نے انکو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی ہے۔

اسلام ٹائمز: حکومت طالبان کیساتھ مذاکرات کی تیاری کر رہی تھی اچانک اپر دیر میں فوج پر حملہ اور پھر پشاور میں چرچ پر خودکش حملہ، کیا ان واقعات نے طالبان کی پوزیشن کمزور نہیں کر دی۔؟

سید منور حسن: اب جبکہ طالبان نے واضح طور پر پشاور کے چرچ پر حملے کی تردید کر دی ہے تو پھر ان کے خلاف پروپیگنڈہ کا جواز ہی نہیں رہ جاتا۔ اصل میں بعض عناصر جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں، یہ انکی کارروائی ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ ماضی میں جب حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے، اس قسم کا کوئی واقعہ رونما ہوگیا کہ جس سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے، اس دفعہ اے پی سی نے حکومت کو طالبان کیساتھ مذاکرات کا پورا اختیار دیا، امید تھی کہ خطے میں قیام امن کے لئے یہ مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے مگر اپر دیر میں رونما ہونے والے المناک واقعہ نے جس میں فوجی افسر اور جوان شہید ہوئے، قوم کو ہلا کر رکھ دیا، ابھی ہم اس واقعہ کے بعد سنبھلے بھی نہیں تھے کہ پشاور میں چرچ پر حملہ ہوگیا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ کوئی طاقت حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات نہیں چاہتی، اس قسم کا سانحہ رونما کرکے پھر سے مذاکرات کو دور کر دیا جاتا ہے۔

کسی کو بھی اس سازش کا شکار ہوکر مذاکرات سے نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ یہ قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ عسکری اور سیاسی قیادت کو اپنے ایجنڈے سے انحراف نہ کرنے دے بلکہ انہیں مذاکرات کا پابند بنائے، جس کی اے پی سی نے ذمہ داری سونپی ہے۔ یہ ایک دہشتگردی کی المناک داستان ہے، جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ اسلام تو سلامتی کا مذہب ہے، یہ کسی کی عبادت گاہ پر حملے کو پسند نہیں کرتا، یہ واقعہ جہاں سکیورٹی کی صورتحال کی ابتری کو ظاہر کرتا ہے، وہاں قیام امن کے لئے دہشت گردی سے نجات کے لئے حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو ایک بار پھر کھٹائی میں ڈالنے کی کوشش بھی ہوسکتا ہے، اس سے عوام کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی، کہیں دشمن ہمیں آپس میں لڑا کر اپنے مذموم مقاصد تو حاصل نہیں کر رہا۔ اس لئے قومی یکجہتی کی جتنی پہلے ضرورت تھی، اس سے زیادہ اس کی ضرورت اب محسوس کی جا رہی ہے۔ ملک میں بسنے والے تمام لوگ اس ملک کے شہری ہیں اور کوئی بھی مملکت اپنے شہریوں کی عبادت گاہوں اور گھروں پر حملے برداشت نہیں کرسکتی۔ ہمیں گرجا گھروں پر حملے کا افسوس ہے اور وہاں ہونے والے جانی نقصان پر بھی ہم اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ کیا سمجھتے ہیں دہشتگردی کے ان واقعات میں امریکہ اسرائیل اور بھارت ملوث ہیں۔؟
سید منور حسن: آپ اس سلسلے کی کڑیاں ملائیں کہ جب وزیراعظم چین جاتے ہیں تو یہاں سے چینی لوگوں کو ہلاک کرکے تابوت چین روانہ کر دیئے جاتے ہیں، اب وزیراعظم امریکہ گئے ہیں تو یہاں چرچ پر حملہ کرکے ان کے دورے کے موقع پر انہیں ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس لئے کہ انہیں پتہ تھا کہ یہ اقوام متحدہ میں جا کر ڈرون حملوں پر اپنا نقطہ نظر بیان کریں گے۔ اگر ایسا کرتے وقت انہیں شدید دشواری اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس طرح وطن دشمن عناصر نے پاکستانی قوم کے جذبات احساسات اور ان کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی کوشش تھی کہ چرچ پر حملے سے یورپ مشتعل ہوجائے گا اور پاکستان کی آواز بھی کمزور پڑ جائے گی۔ یہ خوفناک سازش اس لئے اختیار کی گئی کہ پاکستان میں ہونیوالے ڈرون حملوں پر وزیراعظم پاکستان کی تقریر کا دنیا پر اثر نہ ہوسکے۔ پاکستانی قوم اور عسکری و سیاسی قیادت کو وطن دشمن عناصر کی سازشوں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ آج عالم اسلام کے خلاف یہودیوں کی سازشیں بے نقاب ہو رہی ہیں جو یورپ کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہیں اور مسلمان ممالک کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مصر میں اسلامی جمہوری حکومت کا خاتمہ کرنے والا جرنیل السیسی خاندانی اعتبار سے یہودی ہے۔ وہ ہر صورت میں اسرائیل کا دفاع چاہتا ہے، اس لئے مصر میں قائم ہونے والی اسلامی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ امریکہ اسرائیل یہودیوں کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں۔ امریکہ کی آشیر باد سے اسرائیل عرب ممالک پر حملے کرتا رہتا ہے۔

اسلامی تحریکوں کو دبانے اور انہیں کچلنے میں جہاں امریکہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے وہاں اسرائیلی بھی مکمل طور پر اس کے ساتھ ہوتے ہیں، اس لئے کہ ان کا مقصد ایک ہے۔ یہ اسلامی دنیا میں انتشار پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آج ہم جس دہشت گردی کا شکار ہیں، اس میں اسرائیل امریکہ اور بھارت تینوں شامل ہیں۔ اس لئے کہ ان کے اہداف مشترک ہیں۔ ہم شروع دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور افراتفری پیدا کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ اب تو بھارت کے سابق آرمی چیف بھی برملا اس کا اعتراف کر رہے ہیں کہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لئے سیل قائم کر رکھا تھا، تاکہ پاکستان عدم استحکام کا شکار رہے۔ اس لئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ میں بھارت اب بھی سرگرم عمل ہے۔ پھر بھارتی حکمران مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کی چھ سات لاکھ فوج کشمیر میں پھنسی ہوئی ہے، جہاں وہ بے گناہ کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ پاکستان اپنے داخلی مسائل میں اس طرح الجھا رہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کی طرف نہ آئے اس نے افغانستان کے راستے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مداخلت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، وجہ وہی ہے کہ پاکستان اپنے مشرقی محاذ سے نظر ہٹا کر مغرب میں الجھا رہے۔ اسی لئے وہ مسلسل بلوچستان میں یورش پیدا کر رہا ہے۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت میں بھی اسی کا ہاتھ ہے۔ ہمیں اسے ایکسپوز کرنا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: اب تو کراچی سے بھارتی اسلحہ بھی برآمد ہو چکا ہے جو بھارتی مداخلت کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔؟
سید منور حسن: جی بالکل، آپ نے دیکھ لیا کہ کراچی میں بھارت کی مداخلت موجود ہے اور اس میں ایم کیو ایم کا عسکری ونگ بھارت کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے اور وہی پورے کراچی کی بدامنی کا ذمہ دار ہے۔ اس حوالے سے پولیس کے حوصلے کی داد دیتے ہیں کہ کراچی پولیس نے ہمت سے کام لیتے ہوئے ملک دشمن جماعت کو بے نقاب کیا۔ خدا پولیس چیف کو سلامت اور اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ان امن دشمنوں کو مزید بے نقاب کرکے ذلیل و رسوا کرے، جنہوں نے پورے ملک کا امن داؤ پر لگا رکھا ہے اور اس ایک جماعت کی برائیاں اب پورے ملک میں پھیل رہی ہیں، بوری بند لاشوں کی بانی ایم کیو ایم ہے، پہلے یہ جرم کراچی تک محدود تھا، اب اس کا دائرہ کار لاہور تک پہنچ گیا ہے اور لاہور سے بھی بوری بند لاشیں ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ اس طرح بھتہ خوری بھی ایم کیو ایم کا وطیرہ ہے اور اس کا سلسلہ بھی کراچی سے نکل کر پورے ملک میں پھیل چکا ہے، لاہور میں بہت سے تاجروں سے بھتہ وصولی کے لئے ٹیلی فون کالز کی گئی ہیں کہ بھتہ دو ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے۔ تو یہ سب بدامنی ایم کیو ایم کی وجہ سے ہے، اس لئے حکومت کو کسی قسم کا دباؤ خاطر میں لائے بغیر ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے، ان کا قلع قمع ہوگا تو پورے ملک میں امن قائم ہوجائے گا۔

اسلام ٹائمز: پنجاب یونیورسٹی سے دہشتگرد پکڑا گیا، جو جمعیت کے کارکنوں کے پاس مقیم تھا، یونیورسٹی انتظامیہ اب بھی کہتی ہے کہ جمعیت غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے، ہاسٹلز پر قبضے کئے ہوئے ہیں، آپ کیا کہیں گے۔؟

سید منور حسن: پنجاب یونیورسٹی میں جرائم پیشہ عناصر کی مبینہ طور پر موجودگی انتظامیہ کی نااہلی ہے، اس کی آڑ میں جمعیت پر الزامات لگائے جا رہے ہیں، جو ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ اگر یونیورسٹی ہاسٹل میں جرائم پیشہ عناصر کا بسیرا ہے تو یہ وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی اور کمزوری ہے۔ غنڈہ عناصر کے خاتمے کے لئے مارے جانے والے چھاپوں کے دوران جمعیت کے طلباء کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اگر واقعی جرائم پیشہ عناصر کا یونیورسٹی کے ہاسٹلز پر قبضہ تھا تو وائس چانسلر نے پہلے کارروائی کیوں نہ کی۔ اصل میں یونیورسٹی انتظامیہ اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اسلامی جمعیت طلبہ کو اس معاملے میں ملوث کر رہی ہے، حکمرانوں کو ملک میں آزادانہ گھومنے پھرنے اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تخریب کار تو نظر نہیں آتے البتہ انہیں یونیورسٹی میں دہشتگرد مل جاتے ہیں، چونکہ اسلامی جمعیت طلبہ مصر اور شام میں اسرائیلی مداخلت پر سراپا احتجاج ہے، وہ افغانستان، عراق، لیبیا میں بھی امریکی مداخلت کی مذمت کرتی ہے، اس لئے امریکہ نواز حکمران اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کے لئے اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔