حکومت کو سیز فائر میں پہل کرنا ہوگی، ہم سیکولر نظام کے باغی ہیں، شاہد اللہ شاہد PDF Print E-mail
Written by Administrator   
Sunday, 06 October 2013 21:10

زیرستان کے نامعلوم مقام پر پہلی بار اپنے ویڈیو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کے ساتھ مذکرات کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت پاکستان مذاکرت کے لئے ہرگز سنجیدہ نہیں۔ حکومت کو سیز فائر میں پہل کرنا ہوگی۔ پاکستانی حکومت بے بس حکومت ہے۔ یہ بے بسی کی انتہا ہی ہے کہ کبھی امریکی خود پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو کبھی ڈرون حملوں کے ذریعے بے گناہ افراد کو شہید کرتے ہیں۔ ایسے بے بس حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات مشکل نہیں تو آسان بھی نہیں۔ پاکستان میں شہریوں پر حملے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان مسلمانوں کا دفاع کرنے والی ایک عالمگیر تحریک ہے۔ ''ہم بے گناہ شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے'' بلکہ صلیبوں کے اشارے پر ناچنے والے تیسری قوت طالبان کو بدنام کرنے کے لئے بے گناہ لوگوں کو شہید کر رہے ہیں۔

طالبان گروپوں کے اختلافات کے حوالے سے شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ طالبان کے تمام گروپ امیر حکیم اللہ محسود کی قیادت میں متحد ہیں اور ہر قسم کے حالات کے لئے تیار ہیں۔ تمام طالبان ایک گروپ ہے۔ ان کو شناخت کے لیے محتلف شعبے تشکیل دیئے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کا ہم نے سوچا نہیں ہے کیونکہ ہمارا ہدف کچھ اور ہے۔ ملالہ یوسفزئی پر حملے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملالہ یوسفزئی کو سکول جانے کی وجہ سے نہیں بلکہ اسلام مخالفت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی نے کسی قسم کی بہادری اور جرات کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ وہ جعلی ''گل مکئی'' کے نام سے ڈائری لکھا کرتی تھی۔ میڈیا اور سیکولر نظام جامعہ حفصہ کی طالبات کو یاد نہیں کرتا بلکہ ملالہ یوسفزئی کو استعمال کر رہے ہیں۔ اگر دوبارہ موقع ملا تو پھر بھی اس کو نشانہ بنائیں گے۔

عمران خان کا طالبان دفتر کھولنے کے مطالبے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا عمران خان سیکولر نظام کا حصہ ہیں اور ہم سیکولر نظام کے باغی ہیں۔ اگر وہ مذاکرات کے اتنے ہی شوقین ہیں تو وہ اس کفریہ نظام سے باہر آکر مذاکرات کی بات کریں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ پچھلے نو سالوں سے مذاکرات کے لئے پس پردہ کوشش کر رہے ہیں، جن کو ہم قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اب بھی کچھ لوگ اسی طرح کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مذکرات کے لئے ہمارے مطالبات کو تسلیم کرنا ضروری ہے، جن میں سرفہرست ڈورن حملے بند کرنا اور قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔